فهرس الكتاب

الصفحة 7184 من 7563

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

باب : کنویں اور اس جیسی چیزوں کے مقدمات فیصل کرنا

7184 فَجَاءَ الْأَشْعَثُ وَعَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُهُمْ فَقَالَ فِيَّ نَزَلَتْ وَفِي رَجُلٍ خَاصَمْتُهُ فِي بِئْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قُلْتُ لَا قَالَ فَلْيَحْلِفْ قُلْتُ إِذًا يَحْلِفُ فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ الْآيَةَ

اتنے میں اشعث رضی اللہ عنہ بھی آگئے ۔ ابھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سے حدیث بیان کر ہی رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک شخص کے بارے میں میرا ان سے کنویں کے بارے میں جھگڑا ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے) کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہی ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فریق مقابل کی قسم پر فیصلہ ہو گا ۔ میں نے کہا کہ پھر تو یہ ( جھوٹی ) قسم کھالے گا ۔ چنانچہ آیت " بلا شبہ جو لوگ اللہ کے عہد کو " الخ نازل ہوئی ۔

اس سے کنوئیں وغیرہ کے مقدمات ثابت ہوئے اور یہ بھی کہ اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو مدعا علیہ سے قسم لی جائے گی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت