فهرس الكتاب

الصفحة 7295 من 7563

کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھنا

باب : بے فائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے

7295 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ فُلَانٌ وَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ الْآيَةَ

ہم سے محمد بن عبد الرحیم نے بیان کیا ' کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ' کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ' کہا مجھ کو موسیٰ بن انس نے خبر دی کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا' انہوں نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے کہا یا نبی اللہ ! میرے والد کون ہیں َ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " تمہارے والد فلاں ہیں " ۔ اور یہ آیت نازل ہوئی " اے لوگو! ایسی چیزیں نہ پوچھو " الآیہ۔

خدا نخواستہ کسی کا باپ صحیح نہ ہو اور آپ پوچھنے پر اس حقیقت کو ظاہر کردیں تو پوچھنے والے کی کتنی رسوائی ہوسکتی ہے ۔ اس لیے احتیاطًا جاو بیجا سوال کرنے سے منع کیا گیا ۔ آپ کو اللہ پاک وحی کے ذریعہ سے آگاہ کردیتا تھا ۔ یہ کوئی غیب دانی کی بات نہیں بلکہ محض اللہ کا عطیہ ہے جو وہ اپنے رسولوں نبیوں کو بخشتا ہے قل لا یعلم من فی السمٰوات ومن فی الارض الغیب الا اللہ الخ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت