فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
7328 وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ ائْذَنِي لِي أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ فَقَالَتْ إِي وَاللَّهِ قَالَ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرْسَلَ إِلَيْهَا مِنْ الصَّحَابَةِ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ لَا أُوثِرُهُمْ بِأَحَدٍ أَبَدًا
اور ہشام سے روایت ہے ' ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ کے یہاں آدمی بھیجا کہ مجھے اجازت دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کیا جاؤں ۔ انہوں نے کہا کہ ہاں اللہ کی قسم ' میں ان کو اجازت دیتی ہوں ۔ راوی نے بیان کیا کہ پہلے جب کوئی صحابی ان سے وہاں دفن ہونے کی اجازت مانگتے تو وہ کہلادیتی تھیں کہ نہیں! اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ کسی اور کو دفن نہیں ہونے دوں گی ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے براہ تواضع یہ نہیں منظور کیا کہ دوسری بیویوں سے بڑھ چڑھ کر رہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن ہوں ۔