7398 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَا هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ يَأْتُونَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَا قَالَ اذْكُرُوا أَنْتُمْ اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ وَأُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ' انہوں نے کہا ہم سے ابو خالد احمر نے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سنا ' وہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! وہاں کے قبیلے ابھی حال ہی میں اسلام لائے اور وہ ہمیں گوشت لا کر دیتے ہیں ۔ ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ کا نام بھی لیا تھا یا نہیں ( تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیںَ؟ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو ۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبد الرحمن دراور دی اور اسامہ بن حفص نے کی ۔
برکت اور حلت اور مدد کے لیے اللہ کا نام استعمال کرنا ثابت ہوا ' یہی باب سے مناسبت ہے ۔