فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
7455 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا جِبْرِيلُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ كَانَ هَذَا الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن زر نے بیان کیا، کہا ہم نے اپنے والد ذر بن عبداللہ سے سنا، وہ سعید بن جبیر سے بیان کرتے تھے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جبرائیل! آپ کو ہمارے پاس اس سے زیادہ آنے میں کیا رکاوٹ ہے جتنا آپ آتے رہتے ہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما نتنزل إلا بأمر ربک لہ ما بین أیدینا وما خلفنا» اور ہم نازل نہیں ہوتے لیکن آپ کے رب کے حکم سے، اسی کا ہے وہ سب کچھ جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے الآیہ۔ بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی جواب آیت میں اترا۔
: اس آیت اورحدیث سےحضرت اما م بخاری نےیہ ثابت کی کہ اللہ تعالیٰ کاکلام اورحکم حادث ہوتاہےکیونکہ فرشتوں کووقتًا فوقتًا ارشادات اوراحکام صادر ہوتےرہتے ہیں رد ہواان لوگوں کاجواللہ کاکلام قدیم اورازلی جانتے ہیں ۔البتہ یہ صحیح ہےکہ اللہ کاکلام مخلوق نہیں ہےبلکہ اس کی ذات کی طرح غیر مخلوق ہے۔باقی اس میں آواز ہے،حروف ہیں جس لغت میں منظور ہوتاہے اللہ اس میں کلام کرتاہے۔اہلحدیث کایہی اعتقاد ہےاورجن متکمین نےاس کےخلاف اعتقاد قائم کئےہیں وہ خو د بھی بہک گئے۔دوسروں کوبھی بہکا گئے۔ضلوا فاضلوا۔