فهرس الكتاب

الصفحة 1249 من 7563

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: جس کی کوئی اولاد مرجائے

1249 حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الوَلَدِ، كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ» ، قَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: «وَاثْنَانِ

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالرحمن بن عبد اللہ اصبہانی نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں بھی نصیحت کر نے کے لیے آپ ایک دن خاص فرما دیجےے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی درخواست منظورفرماتے ہوئے ایک خاص دن میں ) ان کو وعظ فرمایا اور بتلایا کہ جس عورت کے تین بچے مر جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پناہ بن جاتے ہیں۔ اس پر ایک عورت نے پوچھا، حضور! اگر کسی کے دوہی بچے مریں؟ آپ نے فرمایا کہ دو بچوں پر بھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت