فهرس الكتاب

الصفحة 3310 من 7563

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

باب : مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے ۔

3310 حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ القُشَيْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقْتُلُ الحَيَّاتِ ثُمَّ نَهَى، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَمَ حَائِطًا لَهُ، فَوَجَدَ فِيهِ سِلْخَ حَيَّةٍ، فَقَالَ: «انْظُرُوا أَيْنَ هُوَ» فَنَظَرُوا، فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ» فَكُنْتُ أَقْتُلُهَا لِذَلِكَ،

ہم سے عمروبن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ابویونس قشیری ( حاتم بن ابی صغیرہ ) نے ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو پہلے مارڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی ، آپ نے فرمایا کہ دیکھو ، وہ سانپ کہاں ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا ( اور وہ مل گیا تو ) آپ نے فرمایا کہ اسے مارڈالو ، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مارڈالا کرتا تھا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت