فهرس الكتاب

الصفحة 3311 من 7563

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

باب : مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے ۔

3311 فَلَقِيتُ أَبَا لُبَابَةَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تَقْتُلُوا الجِنَّانَ، إِلَّا كُلَّ أَبْتَرَ ذِي طُفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُ يُسْقِطُ الوَلَدَ، وَيُذْهِبُ البَصَرَ فَاقْتُلُوهُ»

پھرمیری ملاقات ایک دن ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے مجھے خبردی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارا کرو ۔ البتہ دم کٹے ہوئے سانپ کو جس پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں اس کو مارڈالو ، کیوںکہ یہ اتنا زہریلا ہے کہ حاملہ کے حمل کو گرادیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنادیتا ہے ۔

پہلے جو حدیث گزری اس میں دھاریوں والے، اور بے دم کے سانپ کو مارنے کا حکم فرمایا۔ یہاں بھی اس کے مارنے کا حکم دیا جس میں یہ دونوں باتیں موجود ہوں وہ اور بھی زیادہ زہریلا ہوگا۔ یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس سانپ میں ان دونوں میں سے کوئی صفت یا دونوں صفتیں پائی جائیں اس کو مارڈالو ( وحیدی )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت