فهرس الكتاب

الصفحة 4157 من 7563

کتاب: غزوات کے بیان میں

باب: غزوئہ حدیبیہ کا بیان

4157 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَالمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالاَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الهَدْيَ، وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا» لاَ أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ، حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لاَ أَحْفَظُ مِنَ الزُّهْرِيِّ الإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ، فَلاَ أَدْرِي، يَعْنِي مَوْضِعَ الإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ، أَوِ الحَدِيثَ كُلَّهُ

ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا ' کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ' ان سے زہری نے ' ان سے عروہ نے ' ان سے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریبًا ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا ۔ میں نہیں شمار کرسکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا ۔ اس لیے میں نہیں جانتا ' اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی ۔

اس حدیث میں صلح حدیبیہ کا ذکر ہے حدیث اور باب میں یہی مطابقت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت