فهرس الكتاب

الصفحة 4829 من 7563

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

باب: آیت (( فلما راوہ عارضا الایۃ ) )کی تفسیر

4829 قَالَتْ وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جب لوگ بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اس سے بارش برسے گی لیکن اس کے بر خلاف آپ کو میں دیکھتی ہوںکہ آپ بادل دیکھتے ہیں تو ناگواری کا اثر آپ کے چہرہ پر نمایاں ہو جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو ۔ ایک قوم ( عاد ) پر ہوا کا عذاب آیا تھا ۔ انہوں نے جب عذاب دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت