فهرس الكتاب

الصفحة 5770 من 7563

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

باب: الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے

5770 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ، وَلاَ هَامَةَ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا بَالُ الإِبِلِ، تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا البَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ»

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبردی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے ، ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانا ، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں ۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت