فهرس الكتاب

الصفحة 5771 من 7563

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

باب: الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے

5771 وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ: سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، بَعْدُ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» وَأَنْكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثَ الأَوَّلِ، قُلْنَا: أَلَمْ تُحَدِّثْ أَنَّهُ: «لاَ عَدْوَى» فَرَطَنَ بِالحَبَشِيَّةِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَمَا رَأَيْتُهُ نَسِيَ حَدِيثًا غَيْرَهُ

اور ابو سلمہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا ۔ ہم نے ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کیا ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ ( غصہ میں ) حبشی زبان بولنے لگے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا ۔

راوی کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بھول گئے اس لیے انہوں نے انکار کیا بلکہ انکار کی وجہ شاگرد کا حدیث کو تعارض کی شکل میں پیش کرنا تھا۔ ان کو اس پر ناراضگی ہوئی کیونکہ یہ دونوں احادیث دو الگ الگ مضامین پر شامل ہیں اور ان میں تعارض کا کوئی سوال نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ان معاملات میں عام لوگوں کے ذہنوں میں جو وہم پیدا ہوتا ہے اسی سے بچنے کے لیے یہ حکم حدیث میں ہے کہ تندرست جانور وں کو بیمار جانوروں سے الگ رکھو کیونکہ اگر ایک ساتھ رکھنے میں تندرست جانور بھی بیمار ہو گئے تو یہ وہم پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اس بیمار جانور کی وجہ سے ہوا ہے اور اس طرح کے خیالات کی شریعت حقہ نے تردید کی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت