فهرس الكتاب

الصفحة 6091 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: مسکرانا اور ہنسنا

6091 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحِي مِنَ الحَقِّ، هَلْ عَلَى المَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ المَاءَ» فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ المَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَبِمَ شَبَهُ الوَلَدِ»

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، انہیں ان کے والد نے خبر دی ، انہیں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ، انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ حق سے نہیں شرماتا ، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھے ( تو اس پر غسل واجب ہے ) اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہنسیں اورعرض کیا ، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے ۔

عورت کے ہاں بھی منی پیدا ہوتی ہے پھر احتلام کیوں نا ممکن ہے۔ اس حدیث کی مناسبت باب سے یوں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ہنسی آگئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا ایسے مواقع پر ہنسی آجانا یہ فطری عادت ہے جو مذموم نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت