فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
6090 وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا»
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور دعا کی کہ اے اللہ ! اسے ثبات فرمایا اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا ۔
یہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بت خانہ ڈھانے کے لئے بھیجا تھا، اس وقت انہوں نے گھوڑے پر اپنے نہ جم سکنے کی دعاکی درخواست کی تھی اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی تھی، روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے کا ذکر ہے باب سے یہی مطابقت ہے۔