فهرس الكتاب

الصفحة 6451 من 7563

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

باب: فقر کی فضیلت کا بیان

6451 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ، حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ»

ہم سے ابوبکر عبد اللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہاہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہاہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھاجو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوا تھوڑے سے جو کے میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں ہی سے کھاتی رہی آخر اکتا کر جب بہت دن ہوگئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہوگئے۔

یہ جو دوسری حدیث میں ہے کہ اپنا اناج ناپو اس میں برکت ہوگی ، اس سے مراد یہ ہے کہ بیع اور شرا کے وقت ناپ لینا بہتر ہے لیکن گھر میں خرچ کرتے وقت اللہ کا نام لے کر خرچ کیا جائے برکت ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت