فهرس الكتاب

الصفحة 3425 من 7563

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

باب : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ۔

3425 حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلَ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ ثُمَّ قَالَ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ وَالْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ

مجھ سےعمربن حفص نےبیان کیا،کہا ہم سے میرے والد نےبیان کیا ،ہم سے اعمش نےبیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے ان کےوالد نے اوران سے حضرت ابوذر نےبیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ،یا رسول اللہ ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجد حرام! میں نےسوال کیا ،اس کےبعد کونسی ؟ فرمایا کہ مسجد اقصی ۔میں نےسوال کیااور ان دونوں کی تعمیر کادرمیانی فاصلہ کتنا تھا؟ فرمایا کہ چالیس سال۔پھر آنحضر تﷺ نےفرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کاوقت ہوجائے فورًا نماز پڑھ لو۔تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔

اس کی باب سےمناسبت یہ ہےکہ اس میں مسجد اقصیٰ کاذکرہے جس کی بناء اول بہت قدیم ہےمگر بعد میں حضرت سلیمان نےاسے بنایا ۔کعبہ شریف کی بھی بناء اول بہت قدیم ہےمگر حضرت ابراہیم نےاس کی تجدید فرمائی ۔ہر دوعمارتوں کی پہلی بنیادوں میں چالیس سال کافاصلہ ہے۔ اس طرح منکرین حدیث کااعتراض سادر ہو گیا جو وہ اس حدیث پروارد کرتےہیں۔امت میں گمراہ فرقے بہت سے پیدا ہوئے ہیں مگر منکرین حدیث نےان تمام گمراہ فرقوں سے آگے قدم بڑھاکر بیناد اسلام کوڈھانے کی کوشش کی ہے۔ (قاتلھم اللہ انیٰ یوفکون)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت