فهرس الكتاب

الصفحة 1002 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

1002 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبُكَاءَ عَلَى الْمَيِّتِ قَالُوا الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَذَهَبُوا إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ و قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَرْجُو إِنْ كَانَ يَنْهَاهُمْ فِي حَيَاتِهِ أَنْ لَا يَكُونَ عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' میت کو اس کے گھروالوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتاہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح ہے،۲- اس باب میں ابن عمر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے میت پر رونے کو مکروہ (تحریمی) قراردیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میت کو اس پررونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتاہے۔ اور وہ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں،۴- اورابن مبارک کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ اگروہ (میت ) اپنی زندگی میں لوگوں کو اس سے روکتارہا ہو تو اس پراس میں سے کچھ نہیں ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت