فهرس الكتاب

الصفحة 1086 من 3890

کتاب: نکاح کے احکام ومسائل

1086 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' عورت سے نکاح اس کی دین داری ، اس کے مال اور اس کی خوب صورتی کی وجہ سے کیاجاتا ہے ۱؎ لیکن تو دین دار (عورت) سے نکاح کولازم پکڑلو ۲؎ تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں' ۳؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عوف بن مالک،ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ، عبداللہ بن عمرو، اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے احادیث آئی ہیں۔

۱؎: بخاری ومسلم کی روایت میں چارچیزوں کاذکرہے، چوتھی چیز اس کا حسب نسب اورخاندانی شرافت ہے۔

۲؎: یہ حکم اس لیے دیاگیا ہے کہ دین دارعورت ہی صحیح معنوں میں نیک چلن،شوہرکی اطاعت گزاراوروفادارہوتی ہے جس سے انسان کی معاشرتی زندگی میں خوش گواری آتی ہے اور اس کی گودمیں جونسل پروان چڑھتی وہ بھی صالح اور دیندارہوتی ہے، اس کے برعکس باقی تین قسم کی عورتیں عمومًاانسان کے لیے زحمت اوراولادکے لیے بھی بگا ڑکاباعث ہوتی ہیں۔

۳؎: یہاں بددعامرادنہیں بلکہ شادی کے لیے جدوجہداورسعی وکوشش پرابھارنا مقصودہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت