فهرس الكتاب

الصفحة 292 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

292 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ حُجْرٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَلَسَ يَعْنِي لِلتَّشَهُّدِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى يَعْنِي عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَابْنِ الْمُبَارَكِ

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیںـ: میں مدینے آیا تومیں نے (اپنے جی میں) کہاکہ میں رسول اللہﷺ کی صلاۃ ضرور دیکھوں گا۔ (چنانچہ میں نے دیکھا) جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھے توآپ نے اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھااور اپنا دایاں پیر کھڑا رکھا۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے،اوریہی سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابن مبارک کابھی قول ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت