فهرس الكتاب

الصفحة 718 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

718 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يُصَامُ عَنْ الْمَيِّتِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَا إِذَا كَانَ عَلَى الْمَيِّتِ نَذْرُ صِيَامٍ يَصُومُ عَنْهُ وَإِذَا كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ أَطْعَمَ عَنْهُ و قَالَ مَالِكٌ وَسُفْيَانُ وَالشَّافِعِيُّ لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ قَالَ وَأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ سَوَّارٍ وَمُحَمَّدٌ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا صوم باقی ہو تو اس کی طرف سے ہردن کے بدلے ایک مسکین کوکھانا کھلایا جائے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کوہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲-صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمرسے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے، ۳- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے صیام رکھے جائیں گے۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ یہ دونوں کہتے ہیں: جب میت پر نذروالے صیام ہوں تو اس کی طرف سے صوم رکھا جائے گا، اور جب اس پر رمضان کی قضا واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اورفقیروں کو کھانا کھلایاجائے گا، مالک، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے صوم نہیں رکھے گا۔

نوٹ: (سندمیں اشعث بن سوار کندی ضعیف ہیں، نیز اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت