فهرس الكتاب

الصفحة 1022 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

1022 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَجَابِرٍ وَيَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى وَيَزِيدُ بْنُ ثَابِتٍ هُوَ أَخُو زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ شَهِدَ بَدْرًا وَزَيْدٌ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ التَّكْبِيرَ عَلَى الْجَنَازَةِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے نجاشی کی صلاۃ جنازہ پڑھی توآپ نے چارتکبیریں کہیں۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابن عباس، ابن ابی اوفیٰ، جابر ، یزید بن ثابت اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۳- یزید بن ثابت: زید بن ثابت کے بھائی ہیں۔ یہ ان سے بڑے ہیں ۔ یہ بدر میں شریک تھے اور زید بدر میں شریک نہیں تھے،۴- صحابہ کرام میں سے اکثراہل علم کااسی پرعمل ہے۔ ان لوگوں کی رائے ہے کہ صلاۃ جنازہ میں چار تکبیریں ہیں۔ سفیان ثوری ، مالک بن انس، ا بن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت