1775 حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَالْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ وَلَا نَعْرِفُ لِحَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَصْلًا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہوکرجوتاپہنے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے ،۲- عبیداللہ بن عمرورقی نے اس حدیث کو معمرسے، معمرنے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے روایت کی ہے ، یہ دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہیں، حارث بن نبہان کا حافظہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے،۳- قتادہ کی انس سے مروی حدیث کی ہم کوئی اصل نہیں جانتے ہیں۔
۱؎: کھڑے ہوکر جوتا پہننے میں یہ دقت ہے کہ پہننے والا بسا اوقات گرسکتا ہے، جب کہ بیٹھ کر پہننے میں زیادہ سہولت ہے، اگر کھڑے ہوکر پہننے میں ایسی کوئی پریشانی نہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نوٹ: (متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کا راوی حارث بن نبہان متروک الحدیث ہے ، دیکھئے: سلسلہ الصحیحہ رقم ۷۱۹)