813 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ قَالَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَجُّ وَإِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ الْمَكِّيُّ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر پوچھا:اللہ کے رسول! کیا چیز حج واجب کرتی ہے؟ آپ نے فرمایا:' سفرخرچ اور سواری '۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے،۲- ابراہیم ہی ابن یزید خوزی مکی ہیں اور ان کے حافظہ کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان پر کلام کیا ہے ،۳- اہل علم کااسی پرعمل ہے کہ آدمی جب سفرخرچ اور سواری کا مالک ہوجائے تو اس پر حج واجب ہوجاتاہے۔
نوٹ: (سند میں 'ابراہیم بن یزید الخوزی' متروک الحدیث راوی ہے)