437 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' رات کی نفلی صلاۃ دو دورکعت ہے، جب تمہیں صلاۃِ فجر کا وقت ہوجانے کا ڈر ہوتو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتربنالو، اور اپنی آخری صلاۃ وتر رکھو'۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے،سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎ ۔
۱؎: رات کی صلاۃ کا دورکعت ہو نا اس کے منافی نہیں کہ دن کی نفل صلاۃ بھی دودورکعت ہو، جبکہ ایک حدیث میں 'رات اور دن کی صلاۃدودو رکعت 'بھی آیاہے ، دراصل سوال کے جواب میں کہ 'رات کی صلاۃ کتنی کتنی پڑھی جائے' 'آپﷺ نے فرمایا کہ رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے'نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ خود رات میں کبھی پانچ رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے ، اصل بات یہ ہے کہ نفل صلاۃ عام طورسے دودورکعت پڑھنی افضل ہے خاص طورپر رات کی ۔