فهرس الكتاب

الصفحة 478 من 3890

کتاب: صلاۃِ وترکے احکام و مسائل

478 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ هُوَ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي أَيُّوبَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الزَّوَالِ لَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ

عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، اورفرماتے: 'یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں چاہتاہوں کہ میرا نیک عمل اس میں اوپر چڑھے' ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،۲- اس باب میں علی اور ابوایوب رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۳- نبی اکرمﷺ سے مروی ہے کہ آپ زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھتے اور ان کے آخر میں ہی سلام پھیرتے ۲؎ ۔

۱؎: ہوسکتا ہے کہ یہ ظہر سے پہلے والی چار رکعت سنت مؤکدہ ہی ہوں، کسی نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ دونوں الگ الگ صلاتیں ہیں یا دونوں ایک ہی ہیں۔

۲؎: یہ حدیث ابوداوداورابن ماجہ نے روایت کی ہے اوراس میں 'آخرمیں سلام پھیرنے ولا'ٹکڑاضعیف ہے (دیکھئے صحیح ابوداود۱۱۵۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت