فهرس الكتاب

الصفحة 3199 من 3890

کتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں

3199 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَخْبَرَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ مَا عَنَى بِذَلِكَ قَالَ قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي فَخَطَرَ خَطْرَةً فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ أَلَا تَرَى أَنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ قَلْبًا مَعَكُمْ وَقَلْبًا مَعَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ذرابتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول {مَا جَعَلَ اللَّہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِی جَوْفِہِ} ۱؎ کا کیا معنی ومطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم ﷺ ایک دن صلاۃ پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہوگیا، آپ کے ساتھ صلاۃ پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دودل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت { مَا جَعَلَ اللَّہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِی جَوْفِہِ} نازل فرمائی۔اس سند بھی اسی طرح روایت ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت