فهرس الكتاب

الصفحة 521 من 3890

کتاب: جمعہ کے احکام ومسائل

521 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ جمعہ کے بعد دورکعت (سنت) پڑھتے تھے ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمرکی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- یہ حدیث بطریق 'نافع عن ابن عمر' ہے، ۴- اسی پربعض اہل علم کاعمل ہے ،اوریہی شافعی اور احمدبھی کہتے ہیں۔

۱؎: اس حدیث میں جمعہ کے بعد صرف دورکعت پڑھنے کاذکرہے، اورصحیح مسلم میں ابوہریرہ سے روایت آئی ہے جس میں چاررکعتیں پڑھنے کاحکم ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائزہیں،بعض علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ مسجد میں پڑھنے والاچاررکعت پڑھے، اور گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے کچھ لوگ چھ رکعت کے قائل ہیں، لیکن کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں کہ کس طرح پڑھی جائے، اس میں بھی اختلاف ہے، بعض لوگوں کاکہنا ہے کہ چاروں رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائیں اوربعض کاکہنا ہے کہ دودوکرکے چاررکعت پڑھی جائیں،لیکن بہتریہ ہے کہ دودوکرکے پڑھی جائیں کیونکہ صحیح حدیث میں ہے صلا ۃ اللیل والنہارمثنیٰ مثنیٰ (رات اوردن کی نفل صلاۃدودورکعت کرکے پڑھناہے) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت