فهرس الكتاب

الصفحة 330 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

330 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُهَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَمَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:' آدمی برابرصلاۃ ہی میں رہتاہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتاہے اورفرشتے اس کے لیے برابر دعاکرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتاہے،کہتے ہیں'اللّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ' (اللہ ! اسے بخش دے) ' اللّہُمَّ ارْحَمْہُ ' (اے اللہ! اس پر رحم فرما) جب تک وہ حدث نہیں کرتا'،توحضرموت کے ایک شخص نے پوچھا: حدث کیاہے ابوہریرہ؟ توابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آہستہ سے یازورسے ہوا خارج کرنا ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں علی، ابوسعید،انس ، عبداللہ بن سعود اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: اس حدیث سے مسجدمیں بیٹھ کرصلاۃ کے انتظارکرنے کی فضیلت ظاہرہوتی ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ مسجد میں حدث کرنا فرشتوں کے استغفارسے محرومی کاباعث ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت