فهرس الكتاب

الصفحة 1614 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

1614 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطِّيَرَةُ مِنْ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَسَعْدٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ قَالَ سُلَيْمَانُ هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَمَا مِنَّا

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' بدفالی شرک ہے ' ۱؎ ۔

(ابن مسعود کہتے ہیں:) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیداہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کردیتاہے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲-شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، ۳- امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمدبن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان بن حرب اس حدیث میں 'وَمَا مِنَّا وَلَکِنَّ اللہَ یُذْہِبُہُ بِالتَّوَکُّلِ' کی بابت کہتے تھے کہ 'وَمَا مِنَّا' میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے ،۴- اس باب میں ابوہریرہ ، حابس تمیمی، عائشہ ، ابن عمراورسعد رضی اللہ عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔

۱؎: یہ اعتقاد رکھنا کہ طیرہ یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر 'لا إله إلا الله' پڑھنا بہتر ہوگا، کیوں کہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرمادے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت