فهرس الكتاب

الصفحة 1615 من 3890

کتاب: سیر کے بیان میں

بدشگونی اور بدفالی کا بیان​

1615 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'ایک کی بیماری دوسرے کولگ جانے اوربدفالی وبدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اورمجھ کو فال نیک پسندہے '، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! فال نیک کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا:'اچھی بات'۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

۱؎: چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پرہوتاہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت