فهرس الكتاب

الصفحة 2342 من 3890

کتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

2342 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور آپ { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ...} کی تلاوت کر رہے تھے توآپ نے فرمایا:'ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال ، میرامال ،حالاں کہ تمہارا مال صرف وہ ہے جوتم نے صدقہ کردیا اور اسے آگے چلادیا ۱؎ ، اور کھایا اور اسے ختم کردیا یا پہنا اور اسے پرانا کردیا'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت