فهرس الكتاب

الصفحة 2670 من 3890

کتاب: علم اور فہم دین کے بیان میں

2670 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَسْتَحْمِلُهُ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ مَا يَتَحَمَّلُهُ فَدَلَّهُ عَلَى آخَرَ فَحَمَلَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ إِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ وَبُرَيْدَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس سواری مانگنے آیا، تو آپ کے پاس اسے کوئی سواری نہ ملی جو اسے منزل مقصود تک پہنچادیتی۔ آپ نے اسے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیج دیا، اس نے اسے سواری فراہم کردی۔پھر اس نے آکر آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا:' بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا (ثواب میں ) بھلائی کرنے والے ہی کی طرح ہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں غریب ہے، ۲- اس باب میں ابومسعود بدری اور بریدہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت