فهرس الكتاب

الصفحة 1724 من 3890

کتاب: لباس کے احکام ومسائل

1724 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأَبِي رِمْثَةَ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ ﷺ سے خوبصورت نہیں دیکھا، آ پ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی ، آپ نہ کوتاہ قدتھے اورنہ لمبے ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں جابربن سمرہ ، ابورمثہ اورابوجحیفہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: سرخ لباس کی بابت حالات و ظروف کی رعایت ضروری ہے، اگر یہ عورتوں کا مخصوص زیب وزینت والا لباس ہے جیسا کہ آج کے اس دور میں شادی کے موقع پر سرخ جوڑا دلہن کو خاص طور سے دیاجاتاہے تو مردوں کا اس سے بچنا بہتر ہے، خود نبی اکرم ﷺ کے اس سرخ جوڑے کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیسا تھا؟ خلاصہ اقوال یہ ہے کہ یہ سرخ جوڑا یا دیگر لال لباس جو آپ ﷺ پہنے تھے، ان میں تانا اور بانا میں رنگوں کا اختلاف تھا، بالکل خالص لال رنگ کے وہ جوڑے نہیں تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت