فهرس الكتاب

الصفحة 213 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

213 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا ثُمَّ نُودِيَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَبِي ذَرٍّ وَأَبِي قَتَادَةَ وَمَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ پر معراج کی رات پچاس صلاتیں فرض کی گئیں، پھرکم کی گئیں یہاں تک کہ (کم کرتے کرتے) پانچ کردی گئیں۔ پھر پکار کر کہاگیا: اے محمد ! میری بات اٹل ہے،تمہیں ان پانچ صلاتوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔۲- اس باب میں عبادہ بن صامت ، طلحہ بن عبیداللہ ، ابوذر، ابوقتادہ ، مالک بن صعصہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: یعنی: پہلے جو پچاس وقت کی صلاتیں فرض کی گئی تھیں، کم کر کے ان کو اگرچہ پانچ وقت کی کردیا گیا ہے مگرثواب وہی پچاس وقت کا رکھاگیاہے ، ویسے بھی اللہ کے یہاں ہر نیکی کاثواب شروع سے دس گناسے ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت