فهرس الكتاب

الصفحة 1871 من 3890

کتاب: مشروبات( پینے والی چیزوں)کے احکام و مسائل

1871 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ تُوكَأُ فِي أَعْلَاهُ لَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً وَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم لوگ رسول اللہﷺ کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بندکردیا جاتا تھا ، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کوبھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے توآپ صبح کو پیتے تھے ۱ ؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے یونس بن عبید کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے،۳- اس باب میں جابر، ابوسعید اورابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱ ؎: غرضیکہ نبیذ کو اس کے برتن میں زیادہ وقت نہیں دیاجاتاتھا مبادا اس میں کہیں نشہ نہ پیداہوجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت