فهرس الكتاب

الصفحة 371 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

371 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ، وَهُوَ قَاعِدٌ؟ فَقَالَ:"مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَنَسٍ، وَالسَّائِبِ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے آدمی کی صلاۃ کے بارے میں پوچھاجسے وہ بیٹھ کرپڑھ رہاہو؟ تو آپ نے فرمایا: 'جو کھڑے ہوکرصلاۃ پڑھے وہ بیٹھ کرپڑھنے والے کے بالمقابل افضل ہے، کیوں کہ اُسے کھڑے ہوکرپڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا، اور جو لیٹ کر پڑھے اسے بیٹھ کرپڑھنے والے سے آدھاملے گا' ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- عمران بن حصین کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، انس ، سائب اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: اوریہ فرمان نفل صلاۃ کے بارے میں ہے ، جیساکہ آگے آرہاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت