فهرس الكتاب

الصفحة 1192 من 3890

کتاب: طلاق اور لعان کے احکام ومسائل

1192 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ وَالرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ امْرَأَتُهُ إِذَا ارْتَجَعَهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي وَلَا آوِيكِ أَبَدًا قَالَتْ وَكَيْفَ ذَاكَ قَالَ أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ رَاجَعْتُكِ فَذَهَبَتْ الْمَرْأَةُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَسَكَتَتْ عَائِشَةُ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ قَالَتْ عَائِشَةُ فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ مُسْتَقْبَلًا مَنْ كَانَ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ طَلَّقَ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتادے دینا رجوع کرلینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی ،ا گرچہ اس نے سویا اس سے زائد باراُسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہوجائے اورنہ تجھے کبھی پناہ ہی دونگا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہوگی تو رجعت کرلوں گا۔ اس عورت نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آکر انہیں یہ بات بتائی توعائشہ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ آئے توعائشہ نے آپ کواس کی خبردی۔ نبی اکرمﷺ بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} ( البقرۃ: ۲۲۹) (طلاق(رجعی ) دوہیں، پھر یا تو معروف اوربھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کردینا ہے)۔عائشہ کہتی ہیں:تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمارکرناشروع کیا ، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔دوسری سندسے ہشام بن عروہ نے اپنے والد ہشام سے اسی حدیث کی طرح اسی مفہوم کے ساتھ روایت کی ہے اور اس میں ابوکریب نے عائشہ کے واسطے کاذکرنہیں کیا ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ یعلیٰ بن شبیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ (یعنی: مرفوع ہونا زیادہ صحیح ہے)

نوٹ: (سند میں 'یعلی'لین الحدیث ہیں) لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے اس کا معنی صحیح ہے (دیکھئے ارواء رقم: ۲۰۸۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت