فهرس الكتاب

الصفحة 447 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

447 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَقَ هُوَ السَّالَحِينِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ فَقَالَ إِنِّي أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ قَالَ ارْفَعْ قَلِيلًا وَقَالَ لِعُمَرَ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ قَالَ إِنِّي أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ قَالَ اخْفِضْ قَلِيلًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَأَنَسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ إِسْحَقَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَأَكْثَرُ النَّاسِ إِنَّمَا رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ مُرْسَلًا

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: 'میں (تہجدکے وقت) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آوازکچھ دھیمی تھی؟' کہا:میں توصرف اسے سنارہاتھا جس سے میں مناجات کررہاتھا ۔ (یعنی اللہ کو) آپ نے فرمایا:'اپنی آواز کچھ بلند کرلیاکرو'، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:' میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟'، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگارہاتھا۔ آپ نے فرمایا: 'تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلیا کرو'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- اس باب میں عائشہ ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حمادبن سلمہ سے مسندکیا ہے اورزیادہ ترلوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اورثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلًاروایت کی ہے۔ (یعنی:ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کاذکرنہیں کیاہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت