فهرس الكتاب

الصفحة 1897 من 3890

کتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں

1897 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَبَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ هُوَ أَبُو مُعَاوِيَةَ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَرَوَى عَنْهُ مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْأَئِمَّةِ

معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا اللہ کے رسول!میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا:' اپنی ماں کے ساتھ '، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا:' اپنی ماں کے ساتھ' ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا:' اپنی ماں کے ساتھ' ، میں نے عرض کیا: پھرکس کے ساتھ ؟ فرمایا:'پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھررشتہ داروں کے ساتھ پھرسب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھراس کے بعدکا، درجہ بدرجہ ' ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، شعبہ نے بہز بن حکیم کے بارے میں کلام کیا ہے ، محدثین کے نزدیک وہ ثقہ ہیں، ان سے معمر، ثوری ، حماد بن سلمہ اورکئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے،۲- اس باب میں ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمرو، عائشہ اورابوالدرداء رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: ماں کوتین مشکل حالات سے گذرنا پڑتاہے: ایک مرحلہ وہ ہوتاہے جب نوماہ تک بچہ کو پیٹ میں رکھ کر مشقت و تکلیف برداشت کرتی ہے، دوسرا مرحلہ وہ ہوتاہے جب بچہ جننے کا وقت آتاہے ، وضع حمل کے وقت کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے یہ ماں ہی کو معلوم ہے، تیسرا مرحلہ دودھ پلانے کا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماں کو قرابت داروں میں نیکی اور صلہ رحمی کے لیے سب سے افضل اور سب سے مستحق قراردیا گیاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت