فهرس الكتاب

الصفحة 2110 من 3890

کتاب: وراثت کے احکام ومسائل

2110 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ عُمَرُ الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا فَأَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ وَرِّثْ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہوگی، (یہ سن کر) ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کوبتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو لکھا: 'أشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو'۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت