فهرس الكتاب

الصفحة 1082 من 3890

کتاب: نکاح کے احکام ومسائل

1082 حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّبَتُّلِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَزَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ فِي حَدِيثِهِ وَقَرَأَ قَتَادَةُ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَى الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَيُقَالُ كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ

سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے بے شادی زندگی گزارنے سے منع فرمایاہے ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- زید بن اخزم نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ آیت کریمہ: { وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّیَّۃً} ۲؎ ( ہم آپ سے پہلے کئی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے انہیں بیویاں عطاکیں اور اولا دیں) پڑھی ۳؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اشعث بن عبدالملک نے یہ حدیث بطریق: 'الحسن، عن سعد بن ہشام، عن عائشۃ، عن النبی ﷺ' اسی طرح روایت کی ہے، ۳- کہاجاتا ہے کہ یہ دونوں ہی حدیثیں صحیح ہیں،۴- اس باب میں سعد ، انس بن مالک، عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: تبتل کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کرنے اورازدواجی تعلق سے کنارہ کش رہنے کے ہیں۔

۲؎: الرعد: ۳۸۔

۳؎: آیت میں 'ازواجًا 'سے رہبانیت اور'ذریّۃ'سے خاندانی منصوبہ بندی (فیملی پلاننگ) کی تردید ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت