فهرس الكتاب

الصفحة 2726 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

2726 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلَامَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ وَاهْدُوا السَّبِيلَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے ، لیکن شواہدکی بناء پر صحیح ہے،بالخصوص شعبہ کی روایت ہو نے کی وجہ سے قوی ہے) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کاان کے پاس سے گزرہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ' (یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھانہیں ہے) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیاکرو، مظلوم کی مدد کیاکرو ، اور (بھولے بھٹکے ہوئے کو) راستہ بتادیاکرو '۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت