1469 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّيْدِ فَقَالَ إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قُتِلَ فَكُلْ إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے شکارکے متعلق پوچھاتوآپ نے فرمایا:' تم اپنا تیرپھینکتے وقت اس پر اللہ کانام (یعنی بسم اللہ) پڑھو، پھر اگر اسے مراہواپاؤتوبھی کھالو،سوائے اس کے کہ اسے پانی میں گرا ہوا پاؤ تونہ کھاؤاس لیے کہ تمہیں نہیں معلو م کہ پانی نے اسے ماراہے یاتمہارے تیرنے' ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
۱؎: اگر تیر کی مار کھانے کے بعد یہ شکار تیر کے سبب پانی میں گرا ہو پھر شکاری نے اسے پکڑلیا ہو تو یہ حلال ہے،کیونکہ اب اس کا شبہ نہیں رہا کہ وہ پانی میں ڈوب کر مرا ہے۔