2885 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَال سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ إِذْ رَأَى دَابَّتَهُ تَرْكُضُ فَنَظَرَ فَإِذَا مِثْلُ الْغَمَامَةِ أَوْ السَّحَابَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ السَّكِينَةُ نَزَلَتْ مَعَ الْقُرْآنِ أَوْ نَزَلَتْ عَلَى الْقُرْآنِ وَفِي الْبَاب عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورہ کہف پڑھ رہاتھا کہ اسی دوران اس نے اپنے چوپائے (سواری) کو دیکھا کہ وہ (اپنے کھونٹے پر) ناچنے اوراچھل کود کرنے لگا۔ اس نے نظر (ادھر ادھر ) دوڑائی تو اسے ایک بدلی سی نظر آئی،پھروہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس (واقعہ) کا آپ سے ذکر کیاتو آپﷺ نے فرمایا:' یہ سکینت (طمانینت) تھی جو قرآن کی وجہ سے یا قرآن پڑھنے پر نازل ہوئی'۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں اسید بن حضیر سے بھی روایت ہے۔