1660 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھاگیا: کون آدمی افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا: 'وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہادکرتاہے' ، صحابہ نے پوچھا: پھرکون ؟ آپ نے فرمایا:' پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہواور اپنے رب سے ڈرے اورلوگوں کو اپنے شرسے بچائے ' ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۱؎: اس سے قطعًا یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس حدیث میں رہبانیت کی دلیل ہے، کیوں کہ بعض احادیث میں 'ويؤتى الزكاة' کی بھی صراحت ہے، اور رہبانیت کی زندگی گزارنے والا جب مال کمائے گا ہی نہیں تو زکاۃ کہاں سے ادا کرے گا، علما کا کہنا ہے کہ گھاٹیوں میں جانے کا وقت وہ ہوگا جب دنیا فتنوں سے بھر جائے گی۔اوروہ دورشایدبہت قریب ہو۔