فهرس الكتاب

الصفحة 2714 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

2714 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَنْبَسَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ أُمِّ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ضَعْ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِكَ فَإِنَّهُ أَذْكَرُ لِلْمُمْلِي قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَعَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا ۔ آپ کے سامنے ایک کاتب بیٹھا ہواتھا۔ میں نے سنا آپ اس سے فرمارہے تھے: تم اپنا قلم اپنے کان پر رکھے رہاکرو کیوں کہ اس سے لکھوانے والوں کو آگاہی ویاددہانی ہوجایاکرے گی'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے، ۳- عنبسہ بن عبدالرحمن اور محمد بن زاذان ، دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف قراردیئے گئے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت