فهرس الكتاب

الصفحة 1073 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

1073 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَاللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَيُقَالُ أَكْثَرُ مَا ابْتُلِيَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَقَمُوا عَلَيْهِ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' جس نے کسی مصیبت زدہ کی (تعزیت) ماتم پُرسی کی، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے ،۲- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سندسے موقوفًا روایت کی ہے۔اوراسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳-کہاجاتاہے کہ علی بن عاصم پرجوزیادہ طعن ہوا، اورلوگوں نے ان پرنکیرکی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے۔

نوٹ: (سند میں علی بن عاصم بہت غلطی کرتے تھے اور اپنی غلطی پر اصراربھی کرتے تھے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت