فهرس الكتاب
2027 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنْ الْإِيمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنْ النِّفَاقِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ قَالَ وَالْعِيُّ قِلَّةُ الْكَلَامِ وَالْبَذَاءُ هُوَ الْفُحْشُ فِي الْكَلَامِ وَالْبَيَانُ هُوَ كَثْرَةُ الْكَلَامِ مِثْلُ هَؤُلَاءِ الْخُطَبَاءِ الَّذِينَ يَخْطُبُونَ فَيُوَسِّعُونَ فِي الْكَلَامِ وَيَتَفَصَّحُونَ فِيهِ مِنْ مَدْحِ النَّاسِ فِيمَا لَا يُرْضِي اللَّهَ
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' حیا اورکم گوئی ایمان کی دوشاخیں ہیں،جب کہ فحش کلامی اورکثرت کلام نفاق کی دوشاخیں ہیں ' ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ، ہم اسے صرف ابوغسان محمدبن مطرف ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲-' عیّ' کامعنی کم گوئی اور 'بذاء' کا معنی فحش گوئی ہے ، 'بیان ' کا معنی کثرت کلام ہے، مثلاوہ مقررین جولمبی تقریریں کرتے ہیں اورلوگوں کی تعریف میں ایسی فصاحت بگھاڑتے ہیں جواللہ کو پسند نہیں ہے۔