1997 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:' اپنے دوست سے اعتدال اورتوسط کے ساتھ دوستی رکھوشایدوہ کسی دن تمہارا دشمن ہوجائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے'۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث ایوب کے واسطہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے ، حسن بن ابی جعفرنے اپنی سندسے اس کی روایت کی ہے ، جو علی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ تک پہنچتی ہے ، یہ روایت بھی ضعیف ہے ، اس روایت کے سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ علی سے موقوفا مروی ہے اور یہ ان کا اپناقول ہے ۔