فهرس الكتاب

الصفحة 1313 من 3890

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل

1313 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے بیع محاقلہ، مزابنہ ۱؎ ، مخابرہ ۲ ؎ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا، اورآپ نے عرایا ۴؎ کی اجازت دی ہے ۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: محاقلہ اورمزابنہ کی تفسیرکے لیے دیکھئے حدیث رقم ( ۱۲۲۴) ۔

۲؎: مخابرہ کی تفسیرکے لیے دیکھئے حدیث رقم (۱۲۹۰) ۔

۳؎: عرایاکی تفسیرکے لیے دیکھئے حاشیہ حدیث رقم (۱۳۰۰) ۔

۴؎: بیع سنین کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کو کئی سالوں کے لیے بیچ دے، یہ بیع جائزنہیں ہے کیونکہ یہ معدوم کی بیع کی قبیل سے ہے، اس میں دھوکہ ہے، ممکن ہے کہ درخت میں پھل ہی نہ آئے، یا آئے مگرجتنی قیمت دی ہے اس سے زیادہ پھل آئے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت